جمعرات 29 جنوری 2026 - 14:31
ایران-امریکہ کشیدگی؛ موجودہ تناظر اور ممکنہ انجام

حوزہ/حالیہ دنوں میں ایران و امریکہ کے معاملات ایک نئے کشیدہ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جس میں سیاسی، فوجی اور مذاکراتی تناؤ کے ساتھ ساتھ علاقائی و بین الاقوامی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔

تحریر: مولانا علی عباس حمیدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

حالیہ دنوں میں ایران و امریکہ کے معاملات ایک نئے کشیدہ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جس میں سیاسی، فوجی اور مذاکراتی تناؤ کے ساتھ ساتھ علاقائی و بین الاقوامی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔

فوجی کشیدگی اور بیانات

امریکہ نے وسطِ مشرق میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں USS Abraham Lincoln جہاز رانی بیڑا بھی شامل ہے جو ایران کے قریب تعینات کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی مذاکرات پر دباؤ میں لانے کے لیے انتباہ جاری کیا ہے، کہ اگر تہران جلد معاہدے کے لیے گفتگو نہ کرے تو ممکنہ فوجی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

ایران نے امریکی بیانات اور فوجی موجودگی کے جواب میں سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی نمائندے نے واضح کیا کہ تہران نے امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، جبکہ امریکی دعووں کے برعکس دونوں (ایران اور امریکہ) کے درمیان حالیہ کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔

مذاکرات اور مستحکم قیامِ امن

دو طرفہ تناؤ کے باوجود ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں ثالثی اقدامات جاری ہیں۔ گزشتہ برس ایران اور امریکہ کے درمیان غیر مستقیم مذاکرات عمان میں شروع ہوئے تھے، جن کے ذریعے ایران کے ایٹمی پروگرام اور واپس عائد کردہ پابندیوں کے بارے میں بات چیت ہوئی۔
تاہم تہران نے اعلان کیا ہے کہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ میں مذاکرات ممکن نہیں، اور امن و مذاکرات کے لیے اعتماد اور عدل پر مبنی ماحول ضروری ہے۔

اندرونی مشکلات اور عوامی احتجاج

ایران کے اندر طویل اقتصادی بحران اور افراطِ زر نے عوام میں بے چینی پیدا کی ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں وسیع عوامی احتجاجات ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں کی سخت صورت نے اس بحران کو 1979ء انقلاب کے بعد سب سے سنگین قرار دیا ہے، اور حکومت نے مظاہرین پر سخت گیر کارروائی کی ہے جس سے انسانی حقوق کے مسائل بھی اجاگر ہوئے ہیں۔

علاقائی اور عالمی اثرات

یہ کشیدگی صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ علاقائی سلامتی اور تیل کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ خلیجِ فارس میں جاری فوجی اور سیاسی تناؤ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، اور خطے کے دیگر ممالک بھی تناؤ کو کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اخلاقی اور سفارتی چیلنجز

دونوں ممالک نے اپنے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنے کا اظہار کیا ہے — امریکہ نے ایرانی ایٹمی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ ایران نے اپنی دفاعی اور قومی خودمختاری کے حق کا دفاع کیا ہے، اور کہا ہے کہ بات چیت صرف باعزت اور دوطرفہ احترام کے ساتھ ممکن ہے۔

ایران-امریکہ کشیدگی اور ہندوستان پر اس کے اثرات

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات پورے خطے اور بالخصوص ہندوستان تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان چونکہ توانائی، تجارت، خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کے اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس لیے یہ کشیدگی کئی سطحوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

1. توانائی اور تیل کی قیمتیں

ہندوستان اپنی 80 فیصد سے زائد تیل کی ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے۔ ایران کبھی ہندوستان کے بڑے تیل فراہم کرنے والوں میں شامل تھا۔

ایران-امریکہ کشیدگی بڑھنے سے خلیج فارس میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں۔

تیل مہنگا ہونے سے:
پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں
مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے
حکومت پر سبسڈی اور بجٹ کا دباؤ بڑھتا ہے
یعنی عام ہندوستانی شہری براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔

2. چاہ بہار بندرگاہ اور اسٹریٹیجک مفادات

ایران کی چاہ بہار بندرگاہ ہندوستان کے لیے انتہائی اہم اسٹریٹیجک منصوبہ ہے:
یہ بندرگاہ:
ہندوستان کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک زمینی رسائی دیتی ہے
پاکستان پر انحصار کم کرتی ہے
اگر ایران پر امریکی دباؤ یا پابندیاں بڑھتی ہیں تو:
چاہ بہار منصوبہ سست روی کا شکار ہو سکتا ہے
ہندوستان کے علاقائی تجارتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

3. خارجہ پالیسی کا توازن

ہندوستان ایک مشکل سفارتی توازن میں ہے:
ایک طرف:
امریکہ ہندوستان کا اہم اسٹریٹیجک اور دفاعی شراکت دار ہے
دوسری طرف:
ایران تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ہمسایہ اور شراکت دار ہے

ایران-امریکہ کشیدگی میں:
ہندوستان کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ غیر جانبداری اختیار کرنا پڑتی ہے۔
یہ توازن کبھی کبھی سفارتی دباؤ پیدا کرتا ہے۔

4. ہندوستانی شہری اور افرادی قوت پر اثرات

خلیج کے خطے میں لاکھوں ہندوستانی کام کرتے ہیں۔

کشیدگی یا جنگ کی صورت میں:

ہندوستانی شہریوں کے انخلا کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ترسیلاتِ زر متاثر ہو سکتی ہیں۔
ماضی میں:
عراق، لیبیا اور یمن سے ہندوستانیوں کا بڑے پیمانے پر انخلا ہو چکا ہے
ایسی صورتحال کا خدشہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے

5. علاقائی سلامتی اور دہشت گردی

ایران-امریکہ تنازع:
پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرتا ہے
شدت پسند گروہوں کو موقع فراہم کرتا ہے
اس کے اثرات:
جنوبی ایشیا میں سلامتی کے خدشات
فرقہ وارانہ کشیدگی کا بالواسطہ اثر
سمندری راستوں کی سلامتی پر خطرات

6. اقتصادی اور تجارتی اثرات

پابندیوں کی وجہ سے:
ایران-ہندوستان تجارت محدود ہو جاتی ہے
زرعی، دوا سازی اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں
بین الاقوامی منڈی میں غیر یقینی صورتحال:
سرمایہ کاری پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha